Ahsin Fayaz's new poetry 2021 best sad Ghazal


غربت نے چھینے سینگار کیسے کیسے Ghurbat Ne Chheeny Seengar Kaisy Kaisy

غربت نے چھینے سینگار کیسے کیسے
اور پھر دکھائے مجھے دار کیسے کیسے

ایک تیری خاطر میرے یار میں نے
دل پے کھائے ہیں وار کیسے کیسے

راہِ الفت میں کوئی مجھ سے پوچھے
میں لُٹا ہوں ہر بار کیسے کیسے

کیسے بتاؤں کہ میری غربت نے
گنوائے ہیں مجھ سے یار کیسے کیسے

آیا جب بھی تیسرا شخص بیچ میں
مت پوچھ پھر ٹوٹے اعتبار کیسے کیسے

مشکل وقت ہی تو بتاتا ہے
گرتے ہیں یہاں معیار کیسے کیسے

مجبوریاں چھین لیتی ہیں سر کی چادر
کُمہلاتے ہیں جسم سرِ بازار کیسے کیسے

یہ شکوہِ یادِ یاراں ہے کے میں
شب بھر بِٹھاتا ہوں مئیخوار کیسے کیسے

تجھے کیا خبر احسن وہ بچھڑا ہوا شخص
چھوڑ گیا مجھ میں آثار کیسے کیسے




Poetry by Ahsin Fayaz
Read 57 times
Written on 2021-06-27 at 09:21

Tags Urdu  Poetry  Ghazal 

dott Save as a bookmark (requires login)
dott Write a comment (requires login)
dott Send as email (requires login)
dott Print text